کہانی

ایک کورونا وائرس مریض کی بستر مرگ سے درربھری کہانی

This post is also available in: English

پہلی قسط

اکیسویں صدی میں داخل ہونا یقیناانسانوں کا خواب نہیں تھاجہاں زندگی ٹیکنالوجی کے ساتھ تیزی سے انقلاب لارہی ہے ، وہیں اشیاء اور گیجٹس سے لوگ زندگی کے اصل جوہر سے لطف اندوز ہونا بھی بھول گئے ہیں۔ ہم سب گھڑی کی رفتار سے دوڑنے میں بے حد مصروف ہیں۔ ہم نے اپنے سو نے کی روٹین کو کام اور فرائض کے ساتھ شیڈول کرلیا ہے ۔ ہم اپنے خاندان  سے اب صرف اس وقت ملتے ہیں جب شادی یا موت کی کوئی رسم ہواور وہ بھی اس صورت میں جب ہم اپنے کاموں سے کچھ وقت کے لئے فارغ ہوں۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ہماری ترجیح ہمارے خون کے رشتے اور دوستوں کو ہونا چاہئے ناکہ عارضی پیسہ ، لیکن پیسے کی چمک دھمک ، حیثیت اور طاقت کی ہوس نے ہمیں سب کچھ بھلا دیا ہے۔

تاہم ،یہ کہنا تو نہیں چاہیے لیکن دیکھا جاۓ تو یہ کوروناواٸرس ایک نعمت کے طور پر اس دنیا میں پھیل رہا ہے اگرچہ یہ دنیا کے لئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے لیکن پھر بھی لوگوں کے لئے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ زندگی کی ہلچل سے باز آجائیں ، بیٹھ جائیں ، مسکرائیں اور خوبصورت یادوں سے لطف اٹھائیں۔ قرنطینہ اور لاک ڈاؤن نے لوگوں کو اپنا بچپن دوبارہ زندہ کرنے کاموقع دیا ہے ، عبادت کے ذریعے خدا کے ساتھ وقت گزارنے اور اس کے بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دیا ہے ۔یہ سمجھنے کا بہترین وقت ہے کہ اللہ نے آپ کو بے حد نعمتیں بخشی ہیں اور ان میں صحت اب بھی سب سے زیادہ بڑی نعمت ہے جوہر کسی کو حاصل نہیں ہے۔ صحت میں برکت ہے پر مضامین لکھنا بچپن میں کبھی بھی کارگر ثابت نہیں ہوا لیکن اب میں اپنی موت کے بستر پر زندگی کی آرزو رکھنے کے علاوہ کچھ نہیں چاہتی۔

میرےکھانے کی طلب زندگی کی طلب میں بدل گئی

اکلوتی اولاد ہونے کے ناطے اکثر والدین کی طرف سے مکمل لاڈ پیار اور لامحدود محبت ملتی ہے جس کی وجہ سے ایک بچہ مجھ جیسا بے حدضدی بن جاتا ہے۔ تاہم ، میرے خیال میں ،میں اس کی کافی حد تک مستحق بھی تھی۔ 22سال تک بچے کی آرزو کرنا اور پھر ایک بیٹی پیدا ہونا ، میرے والدین نے میرے لئے کیا کچھ نہیں کیا ہوگا۔ خوش قسمتی سے مجھے دوستوں کا ایک بڑا گروہ ملا جس نے مجھےبے حد پیار کیا اور میری عزت کی۔

اپنی چھوٹی سی دنیا میں خوش رہتے ہوئے ، میں واقعی اسوقت تک پریشان نہیں ہوئی کہ قرنطینہ اور لاک ڈاؤن کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے جب تک ایک دن بھوک اور برگر کھانےکی تڑپ نے گھر چھوڑنے پر مجبور کردیا ،اپنے گھر سے متصل مشہور فاسٹ فوڈ چین جا پہنچی جو ریاض میں واقع تھا۔ چیزیں کافی ہموار تھیں کیونکہ لنچ کے لئے فینسی فوڈ چینز پر ڈرایٸوکرکے جانا میرا روز کا معمول تھا۔ تاہم ، آج کا دن نہیں تھا۔ میں نے شام کو بری طرح سے کھانسی شروع کردی۔



کاش میں نے اپنے والدین کی نصیحت سنی ہوتی

ماں باپ کے بے حد اصرار پرمیں قریبی کلینک سے باقاعدہ چیک اپ کروانے گئی لیکن میں نے سوچا کہ یہ محض ایک نارمل کھانسی ہے کیونکہ میں نے پنیر برگر کے ساتھ کولڈ ڈرنک پی تھی ، تاہم ، اگلے ہی دن طبیعت ناسازی کی وجہ سے میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ  پیزا کھانے کا منصوبہ منسوخ کردیا۔ میں نےایک بوڑھی عورت کی طرح محسوس کرنا شروع کردیا تھا جو پیٹ ، پسلیاں اور نچلے جسم میں شدید درد کے ساتھ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی تھی۔ جب وہ مجھے اسپتال لے جارہے تھے ، مجھے کسی بڑی بیماری سے خوف ہونے لگا جس کا میں شکار ہوگٸ ہوں۔

میں اپنے والدین کی بات سننے اور ہسپتال جانے کے لئے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔ میں بہت لاغر ، کمزور اور مشکل سے چلنے کی ہمت کر پارہی تھی۔ میرے ذہن میں ہزاروں سوال تھے کہ اگر میں اسپتال میں داخل ہوگئی یا اگر میری رپورٹوں سے ڈاکٹر کویہ ظاہر ہوگیا کہ مجھے شدید بیماری لاحق ہے یا سب سے بڑھ کر اگر میں کسی دائمی بیماری کا شکارہو گئی ہوں جو ناقابل علاج ہے تو کیا ہوگا۔ اس دوران یہ سارے خیالات میرے ذہن میں گھوم رہےتھے۔

مجھے اپنا آپ ایک زخمی جنگجو کی طرح محسوس ہورہا تھا جو طبی امداد کی تلاش میں ہو۔

دن اس دن خاص طور پرسب سے لمبا لگ رہا تھا۔ میں تقریبا مشکل سے ہی سانس لے پارہی تھی۔ میڈیکل اسٹاف مجھے اسٹریچر پر لے جاتے ہوئے ریڈ زون لے گئے۔ ہر چیز ایک ہولناک فلم کی طرح تھی جب ڈاکٹرز قیاس کررہے تھے کہ مجھے ایک مہلک وائرس نے پکڑا ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ آگے کیا کرنا ہے۔ ریڈ زون میں ، جو عام طور پر ہسپتال میں کوویڈ 19 مرکز کے نام سے جانا جاتا ہے ، ڈاکٹروں نے فوری طور پر آکسیجن ماسک لگایا اور مختلف ٹیسٹ لیتے ہوئے میرے آکسیجن کی سطح کو اونچا کردیا۔ متعدد ٹیسٹوں کے بعد ، آخر کار اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ میں ڈبل نمونیا میں مبتلا ہوں۔

میرے پھیپھڑے بری طرح متا ثر ہوۓ تھے اور میں کورونا وائرس کے لئے مثبت تھی۔ میرے والدین کو بتایا گیا تھا کہ وہ اب مجھے نہیں دیکھ سکتے ہیں اور وہ صرف فون کے ذریعے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ ان کو چھوڑنے اورخود کو تنہا کرنے سے پہلے ، میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ دنیا میں ہر ایک کو میری کہانی سنائیں اور انہوں نے وعدہ کیا کہ میں ان کے ساتھ جو بھی خیالات ، مشاہدہ اور احساس فون پر گفتگو کروں گی وہ اسے باقی دنیا تک پہنچائیں گے ، اس طرح میں آپ سب کے ساتھ جڑی رہ سکتی ہوں۔



تاریک کمرے میں پہلا دن قبرستان کیطرح لگ رہا تھا

اگرزیادہ مبالغہ آرائی نہ کی جائے تو ، کمرہ یا خلیج جہاں مجھے آخری دم یا سانس لینے یا نئی زندگی حاصل کرنے تک رہنا تھا وہ قبرستان سے کم نہیں تھا۔ کمرہ بہت ہی خوفناک تھا ، لوگوں سے بہت دور تھا جہاں میں خود کو تنہا محسوس کرتی تھی۔ یقین کریں یا نہیں لیکن یہ سارا منظر مجھے میری موت کا عمل محسوس کروا رہا تھا۔ میں سوچ رہی تھی کہ میں کس طرح مروں گی، کتنی تکلیف برداشت کروں گی ، کیا یہ بہت تکلیف دہ ہوگا یا جب ہوگا جب میں سو جاؤں گی۔

پہلے دن ، میں 24/7 بستر پر لیٹی رہی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے میں بازار میں ایک بچی ہوئی شے ہوں جو کوئی بھی گھر لے جانا نہیں چاہتا ہے۔ صرف اسٹاف روزانہ چیک اپ کے لئے آ جاتے تھے۔ جب میں سانس لینے کے لئے جدوجہد کرتی تھی ، تو میں مدد کے لئے پکارتی تھی اور انتظار کرتی تھی کہ کب عملہ آئے اور حفاظتی سامان کے ساتھ مجھے ٹریٹ کرے۔ مجھے ڈر تھا کہ میں مرجاٶ ں گی اور مجھے یہ بھی جلدی نہیں تھی کیونکہ بری طرح ہی سہی لیکن جینا چاہتی تھی۔ یہاں رہنا ایسا ہی تھا جیسے کسی تاریک گڑھے میں رہنا جہاں امید کی کوٸی کرن نہیں تھی۔ مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میرا جسم مجھے چھوڑ رہا ہے۔ میں اس سے پہلے کبھی بھی اس طرح سے زندگی نہیں گزارنا چاہتی تھی۔

بس اپنے دماغ کو اپنے کمرے کے اندھیرے سے ہٹانے کے لۓ، میں نے دوسری چیزوں کو سوچنے کی کوشش کی ، تاہم بہت کوشش کے بعد میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں پارہی تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ تنہائی کے سبب وہ کیسے مجھے یاد کر رہے ہوں گے اور رو رہے ہوں گے۔ جب میں ان سب کے بارے میں سوچ رہی تھی تو میں نے کچھ درد بھری آوازیں سنی ، مجھے پتہ چلا کہ کمرے میں مزید دو مریض لائے جارہے ہیں۔ جن کی طبی حالت میری جیسی تھی لیکن مجھ سےبھی زیادہ شدید

 

Comment here