Uncategorized @ur

سعودئ عرب میں انجینئرنگ کا پیشہ جلد ہی سعودی شہریوں کے لئے مختص کئے جانے کی تیاری

This post is also available in: English

کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ قوم خود اپنے معاشرے کی ترقی اورکامیابی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لےتاہم اب سعودی وژن 2030 کے بینر تلےملک نے ترقی کی سمت بڑھنا شروع کردیا ہے۔ اور صحیح وجوہات کی بناء پر اعلٰی عہدیداروں نےغیر ملکیوں پر انحصارکرنے کے بجائے مقامی شہریوں کو فرموں اور دفاتر میں شامل کرنا شروع کردیا ہے۔

پچھلے کچھ سالوں میں ملک سے میڈیسن اور لیبرکے شعبوں میں کام کرنے والے متعدد غیر ملکیوں کو نکالا گیا ہے۔اہلیت کے معیار کو نہ صرف سختی سے سعودیوں کی طرف منتقل کیا گیا ہے بلکہ اس ملک نے ٹیکس بڑھا کر غیر ملکیوں کو اپنے ملک سے ہٹانا یقینی بنادیا ہے۔ ہم اپنے زائرین کے لئے ملک بھر کی ہر خبروں کا احاطہ کرتے رہے ہیں اور اب بریکنگ نیوز یہ ہے کہ انجینئرنگ فیلڈ جو اب تک سعودائزیشن سے محفوظ رہی ہے وہ اب سعودائزیشن سے گزر رہی ہے۔ کس طرح اور کیوں یہ ضروری سوالات ہیں جن کے بارے میں ہم ذیل کے مضمون میں بحث کرنے جارہے ہیں۔ لہذا ذیل میں سکرول کریں اور تازہ ترین واقعات کو پڑھیں۔

انجینئرنگ فیلڈ اب سعودائزیشن کا سامنا کرے گی

وزیر برائے افرادی قوت اور معاشرتی بہبود ، احمد الرجاہی کے بیان کے مطابق ، ایک ماہ کے اندر انجینئرنگ کے شعبے میں بھی سعودائزیشن کے فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ

جلد ہی تمام انجینئرز سعودی تعینات کردیئے جائیں گے اور یہ کام پوری طاقت کے ساتھ کیا جائے گا۔



مملکت میں سعودائزیشن کا عمل کیوں جاری ہے؟

الوطن اخبار کے مطابق ، ان دنوں سعودائزیشن کے لئے تمام پیشوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ الرجاہی نے سعودائزیشن ہونے کی وجہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ

ہمارا مقصد سعودی کالجوں ، یونیورسٹیوں اور اداروں سے نئے سعودی نوجوانوں کو نجی اداروں اور کمپنیوں میں بھرتی کرنا ہے۔

 سعودائزیشن کیسے نافذ ہوگی؟

عہدیداروں کے مطابق،

وزارت ہر پیشے کے لئے سعودائزیشن کی ایک مخصوص شرح مقرر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ کام فارماسسٹ اور میڈیکل کے شعبے کے اندازمیں کیا جائے گا۔



کیا کوئی اور شعبہ بھی ممکنہ سعودائزیشن کے دائرے میں ہے؟

الرجاہی کے مطابق بہت سے پیشوں میں سعودائزیشن کا اعلان کیا جائے گا انہوں نے واضح کیا کہ

سعودائزیشن کے لئے زیادہ تر ان پیشوں اور اداروں پر زور دیا جائے گا جن میں کام کرنے پر سعودیوں کی خوشنودی اور مرضی ہوگی اور ان اداروں اور پیشوں کو فوقیت دی جائے گی جو سعودیوں کے لئے اٹریکٹیو ہو۔ ان اداروں اور پیشوں میں کام کرنے والے سعودیوں کو اچھی تنخواہ بھی ملے گی۔

انجینئرنگ فیلڈ کو سعودائزیشن کے لئے کیوں منتخب کیا گیا؟

انجینئرنگ کے میدان کے انتخاب کی وجہ کی وضاحت کرتے ہوئے سعودی وزیر لیبرنے کہا کہ

یہ ممکن تھا کہ تمام پیشوں کے لئے سعودائزیشن کی مقررہ شرح کو نافذ کیا جائے۔ اس سلسلے میں انجینئرنگ اور اکاؤنٹنٹ جیسے پیشے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ دونوں ایسے پیشے ہیں جن میں سعودیوں کی تعداد اچھی ہے۔



عوام کو اس سلسلے میں کس طرح مدد ملے گی؟

انسپکٹرز آنے والی نجی کمپنیوں میں چھاپے کی مہم چلائیں گے اور کمپنیوں کو عوام کے سامنے لایا جائے گا تاکہ ہمارے نوجوانوں کو معلوم ہوسکے کہ وہ کونسی کمپنی میں جاسکتے ہیں اور بیرون ملک کون کون سی کمپنیاں ہیں۔ یہ یقینی بنانے کے لئے ایک قدم ہے کہ ہمارے نوجوان ان پیشوں کی تیاری کرکے آ گے بڑھ سکتے ہیں۔

ایسی رپورٹس دیکھنا یقینی طور پر مملکت میں غیر ملکیوں کے لئے ایک خطرہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ لہذا ، اب وقت آگیا ہے کہ لوگ متبادلات تلاش کریں۔ اگر آپ کو یہ آرٹیکل پسند آتا ہے تو شیئر کریں اور روزانہ اپ ڈیٹ کے لئے سبسکرائب کریں

.تازہ ترین خبریں: سعودی عرب کی حالیہ خبریں حاصل کرنے کے لئے آپ ہمارے واٹس ایپ گروپ / فیس بک پیج میں شامل ہوسکتےہیں 

Comment here