تازہ ترین خبریں

كل مساجد میں نماز جمعہ کے بجاۓ ظہر کی آذان ا دا ہوگی

This post is also available in: English

کوروناوائرس (کوویڈ ۔19) ان دنوں سب سے زیاد زیر بحث موضوع ہے۔ جس سےنہ صرف 70 سے زیادہ ممالک متاثر ہوئے ہیں بلکہ ہزاروں جانیں بھی ضائع ہوگئیں ۔ اس کی احتیاط اور روک تھام کے لئے لازمی اقدامات بھی کئے جارہےہیں۔ رریاستوں نے باضابطہ طور پر متاثرہ ممالک سے اپنے ملک میں کسی کورونا وائرس سے متاثرہ کیس سے بچنے کے لئے جانے اور آنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ اسی طرح ، لوگوں کو اس جان لیوا بیماری سے محفوظ رکھنے کے لئے انٹرنیٹ پر ضروری احتیاطی ہدایات کے ساتھ ہر دکان اور مارکیٹ میں این 95 کے ماسک فراہم کردئے گئے ہیں۔

حال ہی میں، سعودی عرب نے ایک اہم اقدام اٹھایا اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں کسی بھی زائرین پر پابندی عائد کی تاکہ جمع ہونے اور کورونا وائرس کے امکانات سے بچا جاسکے۔ ملک اپنی پوری کوشش کر رہا ہے کہ کورونا وائرس کا کوئی کیس نہ ہو۔ ان حالات میں ، وزارت اسلامی امور نے ایک بیان جاری کیا تاکہ نماز کا وقت اور جمعہ کے خطبہ کو کم کرکے 15 منٹ کیا جائے۔ تاہم ، ملک میں بڑھتے ہوئے انفیکشن کے ساتھ حکام نے ایک نیا بیان پاس کیا ہے۔ یہ کس بارے میں کیا ہے؟ براہ کرم ذیل میں مضمون کو پڑھیں تاکہ یہ جان سکیں کہ کس طرح مملکت اپنے شہریوں کی مدد کررہی ہے

ملک میں اجتماعی عبادت پرپابندی عائد

سعودی نیوز ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سعودی وزیر برائے امور اسلامی امور شیخ ڈاکٹر عبداللطیف الشیخ نے ایک نیا بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی تمام مساجد میں نماز جمعہ پر عارضی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس حوالے سے تمام اماموں اور مؤزنوں کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔

کیا جمعہ کی نماز اجتماع میں ادا کی جائے گی؟

نہیں، یہاں تک کہ جمعہ کی نماز بھی اس پابندی کے ماتحت ہے۔ تمام مساجد میں نماز جمعہ کی بجائے نماز ظہر کے لئے ایک اذان دیجائے گی۔ صرف دو مقدس مساجد کو ہی اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ،

علماء بورڈ نے کوروناوائرس وبائی امراض کے مطابق جمعہ کی نماز کے لئے دونوں اذانوں کو برخاست کرنے کا فتویٰ دیا۔

یہ نیا فیصلہ عہدیداروں نے کیوں لیا ہے؟

نیا فیصلہ سعودی عرب کے ممتاز علماء کے فتوی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے احتیاطی تدابیر کا ایک حصہ ہے۔

نماز باجماعت پر پابندی کا فتوی کس نے پاس کیا؟

سعودی عرب میں علمائے کرام کا ایک ادارہ قائم ہے۔ اسے لیڈنگ علما بورڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کے ممبران اور سربراہان کا تقرر خادم حرمین شریفین کرتے ہیں۔ مذہبی امور پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے جس کی بنیاد پر ان کے ذریعہ فتوی جاری کیا جاتا ہے۔


عہدیداروں کے ذریعے یہ نیا فیصلہ کب لیا گیا ہے؟

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق منگل کو ریاض میں وزارت داخلہ اور وزارت اسلامی امور کے ساتھ ساتھ مختلف نامور اسلامی اسکالرز کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس کیا گیا جس میں یہ فیصلہ ملک میں کورونا وائرس کی موجودہ حالت کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔

کیا دونوں عظیم الشان مقدس مساجد بھی اس پابندی کی پیروی کریں گی؟

نہیں ، دو عظیم الشان مقدس مساجد مسجد الحرام اور مسجد نبوی شریف کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے

کیا یہ فیصلے اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہیں؟

ہاں ، علماء کرام نے قرآن و حدیث کے حوالے سے مختلف فیصلوں کی تائید کی جس میں نماز کے درمیان وقت کم کرنا ، خطبہ جمعہ مختصر کرنا ، مسجد کے دروازے بند کرنا ، اذان میں تبدیلی کرنا اور لوگوں کو گھر پر رہنے کا مشورہ دینا اور وہاں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کرنا شامل ہیں۔


مسجدیں بند ہوجائیں گی تو لوگ نماز جمعہ کس طرح ادا کریں گے؟

علمائے کرام نے پابندی کی مدت کے دوران لوگوں کو گھر پر 4 رکعت پڑھنے کی آگاہی دی۔ یہ اس لئے کہ وزیر صحت نے کوروونا وائرس کے خطرات سے آگاہ کیا ، کیونکہ یہ تیزی سے پھیل رہا ہےجس کے نتیجے میں انفیکشن دوگنا ہوگیاہے۔

اسلامی اسکالرز نے لوگوں کو کیا مشورہ دیا؟

سعودی اسکالرز نے مقامی شہریوں اور عام غیر ملکیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کی جانب سے کئے گئے اہتمام کے حفاظتی اور احتیاطی اقدامات کی مکمل پابندی کریں اور ان کے ساتھ تعاون کریں۔

ہم سب کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اس مشورے پر عمل کریں اور محفوظ رہیں۔ اپنی اور دوسروں کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ براہ کرم آرٹیکل کو شیئر کریں اور روزانہ کی تازہ ترین معلومات کے لئے ہمیں سبسکرائب کریں

تازہ ترین خبریں: سعودی عرب کی حالیہ خبریں حاصل کرنے کے لئے آپ ہمارے واٹس ایپ گروپ / فیس بک پیج میں شامل ہوسکتےہیں 

 

Comment here