حج اور عمرہ ویزا

عمرہ فیس واپس کرنے کے لئے سعودی عرب نے ای سسٹم کا آغاز کیا بے

This post is also available in: English

اس نئے سال میں کورونا وائرس کوویڈ 19 دنیا کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ہے۔  جس کے باعث سعودی عرب کے سفر پر پابندی دنیا بھر کے مسلمانوں اور کاروبار کے لئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔ لوگ ریاست میں سفر پر اس طرح کی پابندی کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ مملکت مہلک وائرس سے بچنے کے لئے احتیاطی اقدام کے طور پر اس کا جواز پیش کرتی ہے۔

ہم سب ایران کی موجودہ صورتحال سے بخوبی واقف ہیں, اسلامی کونسل اور دیگر عہدیداروں کا خیال ہے کہ اسلامی اور شعوراقوانین میں رہتے ہوئے یہ ایک اچھا اقدام ہے ۔ ہم نے اس بارے میں تفصیل سے تبادلہ خیال کیا ہے کہ ویزا رکھنے والوں کو کس سفر پر پابندی ہے اور کن شرائط میں ہیں۔ لیکن چونکہ, ماہ کا یہ وقت عمرہ اور حج کی درخواست کے لئے جانا جاتا تھا, اس خبر سے ایک لاکھ افراد متاثرہوئے ہیں۔

ان میں سے بہت سے افراد نے اپنی پروازیں بک کرلی تھیں, باقیوں کے ویزے کے طریقہ کار بھی مکمل ہوچکے ہیں جبکہ دیگر نے ضروری درخواستوں کے لئے اپنی فیس بھی ادا کردی ہے۔ یہ لوگ ان پیسوں کے بارے میں پریشان ہیں جو انہوں نے جمع کروا دیے ہیں کیونکہ ریاست نے سفر پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے وزارت حج و عمرہ نے ایک بیان دیا ہے۔ بیان کیا ہے؟ ذیل میں مضمون میں پڑھیں۔



زائرین اپنی عمرہ اور حج فیس واپس لے سکتے ہیں

وزارت کی جانب سے ایک بیان جاری ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ

مسجد نبوی کا سفر کرنے والے زائرین کی عمرہ فیس اور سروس چارجز واپس کردیئے جائیں گے, جن کا سفر کورونا وایرس کے خوف سے مملکت میں عارضی طور داخل ہونے کے بعد متاثر ہوا تھا۔

عمرہ اور حج فیس کس طرح واپس کی جاسکتی ہے؟

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق, وزارت نے کہا کہ ویزا فیس اور سروس چارجز کی واپسی کی درخواست کرنے کے لئے ایک الیکٹرانک نظام موجود ہے۔ رقم کی واپسی کی فیس کے لئے متاثرہ افراد متعلقہ ممالک میں عمرہ کے ایجنٹوں سے رابطہ کرسکتے ہیں. مزید پڑھیے:  کورونا وائرس کے باعث زائرین کی سعودی عرب جانے پر پابندی

جہاں سے حجاج کرام اور زائرین نے اپنی زیارت کا پلان کیا تھا یا کسی بھی قسم کے سوالات ہونے کی صورت میں, وہ وزارت کے خدمت مرکز سے ای میل آئی ڈی [email protected] اور فون نمبر 00966-920002814 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔



سعودی عرب ابھی تک نئے کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوا ہے اور وہ باقاعدہ پیروی اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کے ساتھ ملک میں وبا کو داخل ہونے سے روکنے کے لئے تمام تر کوششیں کر رہا ہے۔ تمام عمرہ ، حج اور سیاحتی ویزوں پر مملکت کے سفر پر پابندی ہے۔

قومی شناخت رکھنے والوں اور جی سی سی شہریوں کو ضروری شرط کے ساتھ سفر کرنے کی اجازت ہے وہ بھی اس صورت میں کہ انہوں نے 15 دن میں کسی متاثرہ ملک کا دورہ نہیں کیا ہے یا اس وقت مہلک وائرس کی کوئی علامت



ظاہر نہیں کی ہے۔ قوم کو اس قسم کی خطرناک بیماری سے بچانے کے لئے ان اقدامات کو اٹھانا نہایت ضروری ہے۔ تاہم, یہ زإرین  کی بدقسمتی ہے جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مقدس مقامات کی زیارت کے خواہاں تھے۔ یہ وین نہ صرف زإرین کے پلانزکو بلکہ ملک کی معیشت کو بھی متاثر کررہی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس مہلک بیماری کا جلد ہی خاتمہ ہوجائے گی تاکہ سفر پر پابندی ختم ہوسکے۔ تب تک ، براہ کرم ہمارا آرٹیکل شیئر کریں اور روزانہ کی تازہ ترین معلومات کے لئے ہمیں سبسکرائب کریں

.تازہ ترین خبریں: سعودی عرب کی حالیہ خبریں حاصل کرنے کے لئے آپ ہمارے واٹس ایپ گروپ / فیس بک پیج میں شامل ہوسکتے ہیں

Comment here