Latest News

مطاف کی صفائی اور جراثیم کش بنانے کاعمل صرف ۳۰ منٹ میں

مطاف خانہ کعبہ کےارد گرد اس سفید حصے کو کہتے ہیں جہاں طواف ہوتا ہے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ وہ پہلے صحابی تھے جنھوں نے اس حصے کو سیمنٹ لگا کر مضبوط حصہ بنایا۔ اس حصے کا رقبہ گولائی کی شکل میں ۴۰ میٹر سے ۵۰ میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اذان کا منبر، راستہ اور زم زم کنواں اس علاقے میں شامل نہیں ہے۔ مطاف کے لئے ایک خاص قسم کا سنگ مرمر استعمال کیا جاتا ہے جو شدید گرمی میں بھی گرم نہیں ہوتا ہے۔ اس طرح ، گرم ترین دنوں میں بھی ننگے پاؤں طواف کرنا لوگوں کے لئے آسان ہے۔ انتظامیہ وہاں کے ماحول کو پاک و صاف رکھنے کی پوری کوشش کرتی ہے۔ جس میں فرش کی صفائی اور اسے جراثیم کش بنانے کے ساتھ ساتھ باقی دوسرے حصوں کی صفائی اور پوری مسجد کو خوشبودار رکھنے کی ذمہ داری بھی شامل ہے۔

” ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسمٰعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے۔ ” [سورہ بقرہ ، آیت 125]

کتنے کارکنان کی موجودگی ضروری ہے؟

انتظامیہ نے چار شفٹوں میں کام کرنے کے دو ہزار سے زیادہ مرد اور خواتین کارکنوں کو مقرر کیا ہے جو نمازیوں کو پریشان کیے بغیر 45 منٹ میں مسجد کی صفائی کرتے ہیں اور صرف مطاف کی صفائی میں ہی 30 منٹ لگتے ہیں۔

اس جگہ کی صفائی کے لئے کیا ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے؟

مطاف کی صفائی کے لئے تیس برقی کاریں ، ۶۷ مشینیں اور چار سو لیٹر پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ صفائی کا سامان ماحولیاتی آلودگی سے پاک ہےاورحفاظتی اقدام کے پیش نظر نامیاتی ڈٹرجنٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔

کوڑے کی صفائی کا نظام کیسے چلتا ہے؟

کوڑے سے متعلق ٹیمیں عظیم الشان مسجد سے روزانہ 100 ٹن کوڑا کرکٹ جمع کرتی ہیں۔ کوڑے کی شرح مصروف دنوں میں روزانہ 300 ٹن تک بڑھ جاتی ہے۔ مسجد کے اندر دو ہزار سے زیادہ کوڑے دان موجود ہیں۔

وہاں کی خوشبو کیسی ہے ؟

وہاں کا عملہ پوری مہارت اور پیشہ ورانہ طریقے سے کام کرتے ہوئے ہوا میں بڑی مقدار میں عرق گلاب اور خوشبو کا چھڑکاؤ کرتا ہے۔ آس پاس کا ماحول پر امن ہے اور تر وتازہ ہونے کی وجہ سے نمازیوں کو بھی عبادت کرنے میں مزہ آتا ہے۔

کیا پوری دنیا کے لوگ مسجد کے ماحول سے مطمئن ہیں؟

نمازی اور زائرین خدمات سے بے حد مطمئن ہیں۔ لوگوں کو ماحول بہت حفظان صحت کے عین مطابق اور منظم لگتا ہے اور مسجد کا فرش بھی انتہائی صاف ستھرا اہے۔ لوگ وہاں کے ماحول اور ہوا سے بہت مطمئن ہیں۔

لوگوں کی مکہ کی صفائی کے بارے میں کیا رائے ہے ؟

سوڈان سے تعلق رکھنے والے عیسیٰ محمد محمود عبد اللہ اور مصر سے محمد احمد نے حرم کی صفائی کے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عظیم الشان مسجد کی صفائی کے ہنرمند طریقے سے ہونے والی صفائی نے ہی اس مسجد کو اتنا پاک اور صاف ستھرا رکھا ہے۔

کارکنان اور انتظامیہ کی عمدہ کارگردگی –

کارکنوں ، انتظامیہ اور ولی عہد شہزادوں نے نمازیوں کو راحت پہنچانے کے لئے کوششیں کی ہیں اور یہاں آنے والا ہر فرد ماحول اور صفائی سے مطمئن ہے۔ اللہ تعالٰی ہمیشہ ہمیں ان بد نظروں سے بچائے جو حسد اور نفرت کے بدلے میں ہمیں نقصان پہنچائے۔ 

Comment here