تازہ ترین خبریں

کورونا وائرس کے باعث زائرین کی سعودی عرب جانے پر پابندی

This post is also available in: English

کورونا وائرس (کوویڈ ۔19) اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔ کچھ ہی دنوں میں, اس وائرس نے انتہائی سخت اثرات دکھائے ہیں. جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ چین کے شہر ووہان سے پیدا ہونے والے اس مہلک وائرس نے سانس کی نالی کےذریعے پھیلنے والے انفیکشن سے 2,800 سے زیادہ افراد کو موت کے منہ تک پہنچایاہے۔

بدھ کے روز, عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا کہ یہ وائرس پہلی بار چین کے اندرونی شہروں سے زیادہ باہرتیزی سے پھیل رہا ہے۔ دسمبر میں سامنے آنے والے اس نئے کورونا وائرس سے لگ بھگ 40 ممالک میں 80,000 سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ یہ وائرس نیوزی لینڈ, آسٹریلیا اور پاکستان کے لوگوں کو بھی متاثر کررہا ہے.

جبکہ یہ وباء مختلف مشرق وسطی کے ممالک جیسے لبنان, کویت اور عراق, وغیرہ میں بھی ریکارڈ کی گئی ہے. تاہم ایران ان دنوں کورونا کا مرکز بنا ہوا ہے، جس میں 245 کیسزدیکھنے میں آئے ہیں. اور 26 اموات کی تصدیق کی جاچکی ہے۔ ان واقعات کی روشنی میں سعودی وزارت خارجہ نے سعودی وزارت صحت کے تعاون سے عمرہ زائرین پر عارضی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ شرائط کیا ہیں؟ کیا اس ممانعت میں کوئی رعایت ہے؟ دن کے انتہائی اہم موضوع کے بارے میں تمام خصوصی باتیں ذیل کے مضمون میں پڑھیں۔



کورونا وائرس کے باعث سعودی عرب میں عمرہ زائرین پر پابندی

سعودی عرب نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئےعوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش میں عمرہ زائرین پر عارضی پابندی عائد کردی ہے۔ وزارت سیاحت نے برطانیہ کے ہیلتھ اتھارٹیز کے ساتھ تعاون کرکے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ یہ پابندی جمعرات کے دن اعلان کردہ دیگرانتباہی پابندیوں میں شامل ہے کیونکہ مملکت میں صحت کے حکام اس وائرس کے پھیلاؤ پر خاص نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اس پابندی پر اعلی حکام کا کیا رد عمل ہے؟

اسلامی تعاون تنظیم نے کہا ہے کہ وہ حجاج کرام اور زائرین کو کورونا وائرس سے بچانے کے لئے سعودی عرب کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ اس موقع پرمصری دارالفتاح نے بھی کہا کہ

سعودی عرب میں کورونا وائرس پھیلنے پر عمرہ کے ویزوں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ شریعتاً قانون کی پیروی کرتا ہے۔



کیا سعودی عرب میں کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے آیا ہے؟

سعودی وزارت صحت نے جمعرات کے دن ایک بار پھر اس بات کو دہرایاکہ مملکت میں کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم اس سے قبل یہ بات سامنے آئی تھی کہ بحرین اور کویت میں کورونا وائرس کے تازہ ترین واقعات میں سات سعودی شامل ہیں۔ بحرین کی وزارت صحت نے بدھ کے روزبتایا کہ چھ سعودی خواتین میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

کیا تمام ویزا رکھنے والوں پر مملکت جانے پر پابندی ہے؟

سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ مندرجہ ذیل ویزا رکھنے والے مسافروں کو مملکت میں سفری پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔ وہ یہ ہیں

  1. امپلائیمنٹ ویزا
  2. ورک وزٹ ویزا
  3. بزنس وزٹ ویزا
  4. فیملی وزٹ ویزا



کیا پابندی کا اطلاق ملٹی پل ری انٹری وزٹ ویزا رکھنے والوں پر ہے؟

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاسپورٹ(سعودی الجوازات) کے مطابق,

ایک سے زیادہ ری اینٹری ویزا رکھنے والے, جو مملکت چھوڑ چکے ہیں, اس شرط پر ملک میں دوبارہ داخل ہوسکتے ہیں کہ انہوں نے دو ہفتوں کے دوران کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں سے کسی کا دورہ نہیں کیا۔



قومی شناختی کارڈ رکھنے والوں اور جی سی سی شہریوں پر پابندی کا اثر

سعودی عرب نے سعودی وفاقی اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے شہریوں کےمملکت میں آنے اور جانے کے لئے قومی شناختی کارڈ کا استعمال معطل کردیا ہے۔ تاہم اس بین پرکچھ رعایت بھی ہے۔ جیسا کہ

  1. وہ شہری جو ملک سے باہرہےاور اگر وطن واپسی کاخواہاں ہے تواس کا قومی شناختی کارڈ مملکت سے باہر ہونے کی صورت میں مستثنیٰ ہے
  2. جی سی سی ممالک کے شہری جو فی الحال برطانیہ کے اندر ہیں وہ اپنے ممالک واپس جانا چاہتے ہیں توان کا داخلہ قومی شناختی کارڈ کے ساتھ ہوگا اور وہ آزادانہ طور پر سفر کرسکتے ہیں



کن ممالک کا سیاحتی ویزے پر مملکت میں سفر کرنا بین ہے؟

وہ ممالک جہاں سے آنے والے تمام مسافروں اور ایئر لائن کے عملے کے لئے سیاحت کا ویزا معطل کردیا گیا ہے وہ درج ذیل ہیں۔

1). چین 2). ایران 3). اٹلی 4). جنوبی کوریا
5). مکاؤ 6). جاپان 7). تھائی لینڈ 8). ملائیشیا
9). انڈونیشیا 10). پاکستان 11). افغانستان 12). عراق
13). فلپائن 14). سنگاپور 15). ہندوستان 16). لبنان
17). شام 18). یمن 19). آذربائیجان 20). قازقستان
21). ازبکستان 22). صومالیہ 23). ویتنام 24). تائیوان

کب تک مختلف ویزا رکھنے والوں پر یہ پابندیاں عائد رہیں گی؟

سعودی عہدے داروں نے زور دے کر کہا ہے کہ یہ پابندیاں عارضی ہیں اور صحت حکام کے ذریعے اس کا مستقل جائزہ لیا جائے گا۔ وزارت خارجہ نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کا سفر نہ کریں۔ نیز ، سعودی وزارت صحت ہمسایہ عرب ممالک کو کورونا وائرس جیسے متعدی بیماریوں پر قابو پانے اور صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مشورے اور رہنما اصول فراہم رہی ہے۔ صحت عامہ کے نائب وزیر ڈاکٹر ہانی بن عبد العزیز جوکدار نے کہاکہ



یہ ہدایات سعودی عرب کی صورتحال دیکھتے ہوئے حج سیزن کے دوران حاجیوں کی صحت اور صحت کی حفاظت پر مبنی ہیں۔

ہم متاثرہ تمام افراد کی جلد صحت یابی کے لئے دعا گو ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ کوئی بھی کورونا وائرس سے متاثر نہ ہو۔ صحت مند رہنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور رش اورمجمع سے دور رہیں۔ 2020 کے سب سے بڑے خطرے کے بارے میں مزید اپ ڈیٹس کے لئے, ہمارے ساتھ ہی رہیں

.تازہ ترین خبریں: سعودی عرب کی حالیہ خبریں حاصل کرنے کے لئے آپ ہمارے واٹس ایپ گروپ / فیس بک پیج میں شامل ہوسکتےہیں 

Comment here